عوامی ایکشن کمیٹیوں کا تقابلی جائزہ

0

پاکستان کے مختلف خطوں میں جب عوامی مسائل شدت اختیار کرتے ہیں اور سیاسی جماعتیں یا سرکاری ادارے ان کے حل میں ناکام دکھائی دیتے ہیں تو عوامی سطح پر ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر ”ایکشن کمیٹیاں ” وجود میں آتی ہیں۔ یہ کمیٹیاں دراصل عوامی مطالبات کو منظم انداز میں پیش کرنے اور اجتماعی طاقت کے ذریعے حکومتوں کو فیصلے کرنے پر مجبور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ دہائی میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کی تشکیل اسی پس منظر میں ہوئی، تاہم دونوں خطوں میں ان کمیٹیوں کی ساخت، طریقہ کار اور اثر اندزی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ اگر دونوں ماڈلز کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی کا ماڈل زیادہ منظم، جمہوری اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔
گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام بنیادی طور پر 2012 میں اس وقت عمل میں آیا جب وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر گندم پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اس خطے کے عوام کے لیے انتہائی تشویش کا باعث بنا کیونکہ دشوار گزار جغرافیہ، محدود معاشی مواقع اور بلند غربت کی شرح کے باعث وہاں گندم کی سبسڈی عوامی زندگی کا ایک اہم سہارا تھی۔ اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مل کر ایک متحدہ پلیٹ فارم کے طور پر عوامی ایکشن کمیٹی تشکیل دی اور گندم کی سبسڈی کی بحالی کے لیے منظم تحریک کا آغاز کیا۔
اس تحریک کی خاص بات یہ تھی کہ اسے ایک واضح اور محدود ایجنڈے کے ساتھ چلایا گیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے سڑکیں بند کیے بغیر تیس دن تک دھرنا دیا اور پرامن احتجاج کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھایا۔ بالآخر وفاقی حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کرنا پڑے اور گندم پر سبسڈی بحال کر دی گئی۔ اس کامیابی نے گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک مضبوط اور معتبر عوامی پلیٹ فارم کے طور پر قائم کر دیا۔
وقت کے ساتھ اس کمیٹی نے اپنی تنظیمی ساخت کو مزید منظم کیا۔ اس فورم کی ستر رکنی ایگزیکٹو کونسل قائم کی گئی جو پانچ سال کے لیے عہدیداران کا انتخاب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک باقاعدہ ”چارٹر آف ڈیمانڈ” بھی مرتب کیا گیا جس میں عوامی مسائل اور مطالبات کو واضح طور پر شامل کیا گیا۔ان میں زیادہ تر مطالبات قومی نوعیت کے تھے اور ان کو حل کرنے کا اختیار صرف وفاق کے پاس تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ جنرل الیکشن سے قبل کمیٹی کے عہدیداران اپنے عہدے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی اپنی سیاسی جماعتوں یا آزادانہ طور پر انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں۔ انتخابات کے بعد دوبارہ ایگزیکٹو کونسل کے ذریعے تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف جمہوری روایات کو فروغ ملا بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ عوامی ایکشن کمیٹی سیاسی عمل سے الگ تھلگ نہیں بلکہ اس کا ایک مثبت حصہ ہے۔
گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا وسیع نمائندہ کردار ہے۔ اس میں مختلف سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیموں، مزدور یونینوں اور سماجی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پلیٹ فارم کسی ایک جماعت یا گروہ کا نمائندہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ آواز بن گیا ہے۔ اس اتحاد اور تنظیمی نظم و ضبط کے باعث اس کمیٹی نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل مطالبات میں سے تین چوتھائی حصہ حل کروا نے میں کامیابی حاصل کی۔
اس کے برعکس آزاد کشمیر میں قائم ہونے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ڈھانچہ اور طریقہ کار مختلف ہے۔ اگرچہ اس کا قیام بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے عمل میں آیا تھا اور اس نے بعض معاملات میں عوامی دباؤ پیدا کرنے میں کردار ادا کیا، لیکن اس کی تنظیمی ساخت ابھی تک واضح اور مستحکم نہیں ہو سکی۔ حالیہ عرصے میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا ایکشن کمیٹی کے عہدیداران یا ارکان انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح ایک ضابطہ اخلاق بھی سامنے آیا جس کے تحت کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار کو ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کا رکن نہیں بنایا جا سکتا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک عوامی تحریک کو سیاسی عمل سے مکمل طور پر الگ رکھنا ممکن یا مفید ہے؟ گلگت بلتستان کے تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب ایکشن کمیٹی میں مختلف سیاسی اور سماجی طبقات کی نمائندگی ہوتی ہے تو اس کی قوت اور اثر پذیری میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیاست اور عوامی تحریک کو مکمل طور پر الگ کر دینا عملی طور پر ممکن بھی نہیں کیونکہ عوامی مسائل کا حل بالآخر سیاسی فیصلوں ہی کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر کی ایکشن کمیٹی میں اس وقت جو ابہام پایا جاتا ہے وہ اسی بنیادی سوال سے جڑا ہوا ہے۔ اگر سیاسی کارکنوں کو مکمل طور پر الگ کر دیا جائے تو تنظیمی تجربہ اور سیاسی حکمت عملی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر واضح ضابطہ اور جمہوری طریقہ کار نہ ہو تو تحریک انتشار کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔
گلگت بلتستان کا ماڈل اس حوالے سے ایک متوازن مثال پیش کرتا ہے۔ وہاں ایکشن کمیٹی نہ صرف عوامی مطالبات کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بنی بلکہ اس نے سیاسی عمل کے ساتھ ایک صحت مند تعلق بھی قائم رکھا۔ اس کے رہنما انتخابات
میں حصہ بھی لیتے ہیں لیکن تنظیمی ڈھانچے کو جمہوری انداز میں برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار نے ایک طرف عوامی تحریک کو مضبوط بنایا اور دوسری طرف اسے سیاسی نظام کا ایک مثبت حصہ بھی بنا دیا۔
اگر آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کو مؤثر بنانا مقصود ہے تو گلگت بلتستان کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک واضح چارٹر آف ڈیمانڈ، جمہوری تنظیمی ڈھانچہ، وسیع نمائندگی اور سیاسی عمل کے ساتھ متوازن تعلق وہ عناصر ہیں جو کسی بھی عوامی تحریک کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔
آخرکار کسی بھی خطے کی ترقی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ عوامی تحریکیں ذمہ داری، بصیرت اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی اس کی ایک کامیاب مثال ہے جس نے ثابت کیا کہ منظم اور جمہوری انداز میں چلائی جانے والی تحریکیں نہ صرف مطالبات منوا سکتی ہیں بلکہ سیاسی نظام کو بھی مثبت سمت میں متاثر کر سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں