فاروق عبداللہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے

0

جموں ( دھرتی نیوز )مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے جب ایک مسلح شخص نے شادی کی تقریب کے دوران ان پر فائرنگ کرنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی اہلکاروں کی فوری کارروائی کے باعث حملہ ناکام بنا دیا گیا اور ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جموں کے علاقے گریٹر کیلاش میں ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا جہاں فاروق عبداللہ دیگر سیاسی شخصیات کے ہمراہ شرکت کے لیے موجود تھے۔ تقریب کے اختتام پر جب وہ باہر نکل رہے تھے تو ایک شخص ان کے قریب آیا اور پستول سے فائر کرنے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے فوری طور پر حملہ آور کو قابو میں لے لیا جس کے باعث گولی ہدف پر نہ لگ سکی اور فاروق عبداللہ محفوظ رہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت کمل سنگھ جمواَل کے نام سے ہوئی ہے جسے موقع پر ہی گرفتار کر کے اس کے قبضے سے پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کافی عرصے سے فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ سخت سکیورٹی کے باوجود حملہ آور فاروق عبداللہ کے اتنا قریب کیسے پہنچ گیا۔ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعے کو قاتلانہ حملے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں