جامعات کا مالی بحران — علمی مراکز کو بچانے کی ضرورت

0

آزاد جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے ایک طویل عرصے سے مالی مشکلات کا شکار ہیں، مگر حالیہ دنوں میں یہ بحران خاص طور پر پونچھ ڈویژن کی جامعات، جامعہ پونچھ راولاکوٹ اور ویمن یونیورسٹی باغ کے لیے نہایت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ دونوں ادارے نہ صرف خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان جامعات کو درپیش مالی مشکلات محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
جامعات کسی بھی معاشرے کی فکری اور سائنسی ترقی کا بنیادی ستون ہوتی ہیں۔ یہاں سے نکلنے والے طلبہ ہی مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، منتظمین اور محققین بنتے ہیں۔ اگر یہی ادارے مالی بحران کا شکار ہوں تو نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ تحقیق، تدریس اور انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ پونچھ ڈویژن کی جامعات میں اساتذہ کی تنخواہوں، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کے لیے فنڈز کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
حکومت آزاد کشمیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جامعات کی سرپرستی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ بدقسمتی سے عملی طور پر ایسا نظر نہیں آتا۔ ترقی یافتہ معاشروں میں حکومتیں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ تعلیم دراصل مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ لیکن آزاد کشمیر میں جامعات کو اکثر مالی وسائل کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
خصوصاً ویمن یونیورسٹی باغ جیسا ادارہ خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کی تعلیم پہلے ہی کئی سماجی رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہے، وہاں اس یونیورسٹی کو مالی مشکلات کا شکار ہونا تشویشناک ہے۔ اسی طرح جامعہ پونچھ راولاکوٹ پورے خطے کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا ایک بڑا مرکز ہے، مگر محدود وسائل کے باعث یہ ادارہ بھی مشکلات سے دوچار ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آزاد کشمیر جامعات کے لیے مستقل اور مؤثر مالی پالیسی تشکیل دے۔ وفاقی حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کے ذریعے اضافی فنڈز حاصل کیے جائیں، جبکہ مقامی سطح پر بھی تعلیم کے شعبے کو بجٹ میں ترجیح دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعات کی انتظامیہ کو بھی مالی نظم و ضبط اور وسائل کے مؤثر استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات صرف جامعات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ تعلیمی اور سماجی ترقی میں پیچھے رہ جائے گا۔ علم کے یہ مراکز دراصل قوم کی امیدوں کے چراغ ہیں، اور ان چراغوں کو روشن رکھنا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرے اور جامعات کو مالی استحکام فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ آنے والی نسلوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں