پاکستان ایک بار پھر توانائی کے سنگین بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بڑھتی ہوئی طلب، محدود وسائل، ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور انتظامی کمزوریاں اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے“سمارٹ لاک ڈاؤن”کی تجویز زیر غور آنا ایک اہم پالیسی قدم ہے، جس کا مقصد توانائی کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے نظام کو چلتا رکھنا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے ممکنہ اثرات خصوصاً تعلیمی اداروں پر گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔
سمارٹ لاک ڈاؤن بظاہر ایک متوازن حکمت عملی معلوم ہوتی ہے، جس میں مکمل بندش کے بجائے مخصوص اوقات یا شعبوں میں پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ اس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو کسی حد تک جاری رکھنے کی گنجائش ملتی ہے، جبکہ توانائی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی ادارے اس پالیسی کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے؟
ماضی کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ کورونا وبا کے دوران طویل تعلیمی بندش نے نہ صرف طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کیا بلکہ ایک پوری نسل کی سیکھنے کی رفتار کو بھی سست کر دیا۔ آن لائن تعلیم کا متبادل بھی پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مکمل طور پر مؤثر ثابت نہ ہو سکا، جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات، بجلی کی دستیابی اور ڈیجیٹل آلات تک رسائی یکساں نہیں۔ ایسے میں اگر توانائی بچانے کے نام پر تعلیمی اداروں کے اوقات کار محدود کیے جاتے ہیں یا وقفے وقفے سے بندش کی جاتی ہے تو اس کے اثرات ایک بار پھر طلبہ کے مستقبل پر پڑ سکتے ہیں۔
خاص طور پر دیہی علاقوں اور کم وسائل رکھنے والے طبقات کے طلبہ اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ شہروں میں تو کسی حد تک متبادل انتظامات ممکن ہیں، لیکن دور دراز علاقوں میں نہ تو آن لائن تعلیم کا ڈھانچہ موجود ہے اور نہ ہی مستقل بجلی کی فراہمی۔ یوں تعلیمی عدم مساوات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیمی ادارے پہلے ہی نصاب کی تکمیل کے دباؤ، امتحانی نظام کی پیچیدگیوں اور تدریسی معیار کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر ان پر مزید بندشوں کا بوجھ ڈالا گیا تو اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ نتیجتاً نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوگا بلکہ ذہنی دباؤ اور بے چینی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی مرتب کرتے وقت تعلیم کے شعبے کو خصوصی رعایت دے۔ تعلیمی اداروں کے لیے علیحدہ اور ترجیحی حکمت عملی ترتیب دی جائے، جیسے کہ اسکولوں کے اوقات کو دن کے ان
حصوں میں منتقل کرنا جہاں توانائی کی طلب کم ہو، یا متبادل توانائی ذرائع (مثلاً سولر سسٹمز) کو فروغ دینا۔ مزید برآں، آن لائن تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات بھی ناگزیر ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
توانائی کا بحران یقیناً ایک حقیقت ہے، مگر اس کا حل ایسا نہیں ہونا چاہیے جو قوم کے مستقبل، یعنی تعلیم، کو مزید کمزور کر دے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن ایک عارضی حل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے نفاذ میں توازن، دانشمندی اور دور اندیشی انتہائی ضروری ہے۔ اگر ہم نے آج تعلیم کو نظر انداز کیا تو کل اس کی قیمت پوری قوم کو چکانی پڑے۔
توانائی بحران اور سمارٹ لاک ڈاؤن — تعلیم پر ممکنہ اثرات
0





