آزاد کشمیر میں صنعتی ترقی کے لیے نئی پالیسی بنانے کا عندیہ

0

آزاد کشمیر میں صنعتی ترقی کے لیے نئی پالیسی بنانے کا عندیہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور اور مشیر حکومت برائے انڈسٹری کے درمیان ہونے والی ملاقات محض ایک رسمی مشاورت نہیں بلکہ اس خطے کے معاشی مستقبل سے جڑا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر طویل عرصے سے صنعتی لحاظ سے پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ قدرتی وسائل، سیاحت کے مواقع اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود صنعتی ڈھانچے کی کمزوری نے نہ صرف معاشی ترقی کو محدود رکھا بلکہ بے روزگاری میں بھی اضافہ کیا۔ ایسے میں نئی صنعتی پالیسی کی ضرورت ایک دیرینہ مطالبہ رہی ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ پالیسی محض کاغذی کارروائی تک محدود رہے گی یا اس پر عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے؟ ماضی میں بھی متعدد پالیسیاں اور اعلانات کیے گئے، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث عوام کو کوئی واضح فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ اس بار حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف منصوبہ بندی تک محدود نہ رہے بلکہ واضح ٹائم لائن، سرمایہ کاری کے مواقع، اور نجی شعبے کو اعتماد دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
آزاد کشمیر میں صنعت کاری کے فروغ کے لیے چند بنیادی امور پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے انفراسٹرکچر کی بہتری—سڑکیں، بجلی اور مواصلاتی سہولیات—کو یقینی بنایا جائے۔ دوسرا، سرمایہ کاروں کے لیے آسان اور شفاف پالیسی متعارف کروائی جائے تاکہ بیرونی اور مقامی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ تیسرا، ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے لیے فنی تعلیم کے اداروں کو فعال کیا جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ صنعتی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ قدرتی حسن اور وسائل متاثر نہ ہوں۔ اگر ترقی کا عمل غیر متوازن ہوا تو یہ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
حکومت کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ اگر نئی صنعتی پالیسی حقیقتاً نافذ ہوتی ہے اور اس پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے تو نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ آزاد کشمیر معاشی طور پر ایک مضبوط خطہ بن سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اعلان عملی شکل اختیار کرتا ہے یا ماضی کی طرح ایک اور وعدہ بن کر رہ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں