حکومتِ پاکستان کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں 65 زیرِ تعمیر اسکولوں کی تکمیل کے لیے ایک ارب روپے کی منظوری بظاہر ایک خوش آئند اقدام ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک بھر میں تعلیمی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور ہزاروں بچے مناسب سہولیات سے محروم ہیں، یہ فیصلہ امید کی ایک کرن ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کو صرف ایک مالی منظوری کے طور پر دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پس منظر، تاخیر اور عملدرآمد کے پہلوؤں کا جائزہ لینا بھی ناگزیر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن 65 اسکولوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، وہ پہلے ہی 80 فیصد سے زائد مکمل ہو چکے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ منصوبے آخری مراحل میں تھے تو ان کی تکمیل میں تاخیر کیوں ہوئی؟ کیا یہ صرف مالی وسائل کی کمی تھی یا پھر منصوبہ بندی اور ترجیحات کے تعین میں کوئی بنیادی خامی موجود تھی؟ ترقیاتی منصوبوں کا برسوں تک التوا کا شکار رہنا ہمارے انتظامی ڈھانچے کی ایک کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، جسے محض فنڈز جاری کر کے دور نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ابتدائی طور پر حکومتِ آزاد کشمیر کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے وسائل سے ان منصوبوں کو مکمل کرے۔ بعد ازاں وفاقی سطح پر دوبارہ تخصیص (ری اپروپریشن) کے ذریعے فنڈز فراہم کیے گئے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فیصلہ سازی میں تسلسل کا فقدان ہے، جو نہ صرف منصوبوں کی رفتار کو متاثر کرتا ہے بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اور اسکول صرف عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ایک بہتر مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اگر یہ منصوبے بروقت مکمل ہو جاتے تو شاید ہزاروں طلبہ پہلے ہی ان سہولیات سے مستفید ہو رہے ہوتے۔ اب جبکہ فنڈز جاری ہو چکے ہیں، اصل امتحان ان کے شفاف اور مؤثر استعمال کا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ ادارے نہ صرف ان اسکولوں کو جلد مکمل کریں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ آئندہ کوئی بھی تعلیمی منصوبہ اس طرح تاخیر کا شکار نہ ہو۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفاف نگرانی، اور واضح حکمتِ عملی ہی وہ عوامل ہیں جو اس طرح کے اقدامات کو حقیقی کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ اگرچہ مثبت ہے، مگر اسے کامیابی کا نام تبھی دیا جا سکتا ہے جب یہ اسکول جلد از جلد مکمل ہو کر بچوں کے لیے علم کے دروازے کھولیں —ورنہ یہ ایک اور سرکاری فائل بن کر رہ جائے گا۔
نامکمل اسکولوں کی تکمیل—ترقی یا تاخیر کا ازالہ؟
0










