تازہ خبریں

Roznama Dharti FB Banner

سعودی عرب کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ شاہ عبداللہ کئی ہفتے سے علیل تھے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے انھیں کئی روز سے ٹیوب کے ذریعے سانس دلایا جا رہا تھا۔ سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل نے شاہ عبداللہ کے انتقال کی خبر نشر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات مقامی وقت کے مطابق ایک بجے چل بسے۔ ’قدامت پسند گھرانے کا نسبتاً اصلاح پسند حکمران‘ سعودی شہزادوں میں بادشاہت پر جھگڑا ہو سکتا ہے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کے انتقال پر سعود خاندان کے تمام افراد اور قوم غمزدہ ہے۔ شاہ عبداللہ کی جگہ بادشاہت ان کے سوتیلے بھائی 79 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سنبھالی ہے جنھیں دو برس قبل شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ولی عہد کا منصب ملا تھا۔ شاہ عبداللہ کے ہی ایک اور سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن نئے ولی عہد ہوں گے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق نئے بادشاہ نے شاہی خاندان کی وفادار کونسل سے کہا ہے کہ وہ شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر ہونے کی توثیق کرے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف سمیت عالمی رہنماؤں نے سعودی شاہ کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر اوباما نے شاہ عبداللہ کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے اُن کی خدمات کو سراہا جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ قیام امن کے لیے شاہ عبداللہ کی کوششوں کی وجہ سے انھیں ہمشہ یاد رکھا جائے گا۔شاہ عبداللہ نو برس سے زیادہ عرصے تک سعودی عرب کے بادشاہ رہے۔ انھوں نے ملک کی سربراہی سنہ 2005 میں اپنے ایک اور سوتیلے بھائی شاہ فہد بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سنبھالی تھی۔ انھیں سعودی عرب میں قدرے اعتدال پسند حکمران تصور کیا جاتا تھا اور ان کے دور میں میڈیا کو حکومت پر کسی حد تک تنقید کرنے کی اجازت تھی۔ انھوں نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ زیادہ خواتین کو کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایک لمبے عرصے سے شاہ عبداللہ کے منظر عام پر نہ آنے سے سوشل میڈیا پر گذشتہ سال سے ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں۔ کمر میں تکلیف کے باعث ان کے دو آپریشن ہو چکے تھے جن میں 13 گھنٹے کا ایک طویل آپریشن بھی شامل ہے۔ 2010 میں وہ تین ماہ تک امریکہ میں بھی زیر علاج رہے تھے۔ شاہ عبداللہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اگست 1924 کو ریاض میں پیدا ہوئے تھے اور وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے 37 بیٹوں میں سے 13ویں نمبر پر تھے۔ ان کی جگہ لینے والے سعودی عرب کے نئے شاہ سلمان سعودی عرب کے بانی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے ان سات بیٹوں میں سے دو ہیں جنھیں ’سدیری سات‘ کہا جاتا تھا۔ انھیں یہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ سب ابن سعود کی سب سے زیادہ چہیتی اہلیہ حصہ السدیری کے بطن سے پیدا ہوئے۔ نئے سعودی شاہ سلمان کو ذہنی انحطاط کا مرض ڈیمینشیا لاحق ہے تاہم شاہ عبداللہ کی انتہائی خراب صحت کے باعث گذشتہ کچھ عرصے سے وہی مختلف تقریبات میں ان کی نمائندگی کر رہے تھے۔



Head Office Dharti : 0092 5824 445864
E-mail:dailydhartiajk@gmail.com

   A PROJECT OF : EARTH VISSION PUBLICATION PVT.LTD

Powered by Solution's