تازہ خبریں


راولاکوٹ ( سٹاف رپورٹر ) سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کی ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس گزشتہ روز یہاں راولاکوٹ میں منعقد ہوا جس میں ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران کے علاوہ قبیلے کے دیگر زعماءنے بطور مبصرین شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت صدر سدھن ایجوکیشنل کانفرنس سردار محمد صدیق خان ( سیکرٹری حکومت ریٹائرڈ ) نے کی جبکہ دیگر شرکاءمیں سردار اعجاز افضل ایڈووکیٹ ، سردار محمد رحیم خان (سابق سیکرٹری حکومت) ، سردار عابد حسین عابد ( سابق وزیر حکومت ) سردار زبیر ایوب خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد رحیم خان ، پروفیسر محمد فیاض خالد (باغ ) ، پروفیسر شہاد حسین (باغ ) ، حاجی سردار محمد افراہیم خان (باغ ) ، میجر (ر) گل حسین خان (تھوراڑ ) ڈاکٹر غلام حسین خان ، پروفیسر محمد امتیاز فیروز ، ڈاکٹر محمد نواز خان ، سردار عبدالخالق ایڈووکیٹ ، سردار محمد حبیب خان ایڈووکیٹ ( پلندری ) ، سردار عابد صدیق ، سردار محمد ساجد ، سردار الطاف حسین خان ( تھوراڑ ) ، دلاور گل ، عبدالقدوس ( پتن شیر خان ) ، محمد اقبال خان (تیتری نوٹ ) سمیت دیگر نے شرکت کی ،اجلاس کے آغاز میں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والی جارحیت اور کشمیریوں پر کیے جانے والے تشدد کی شدید مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارت کو ان کارروائیوں سے روکے ،اس حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔بعد ازاں اجلاس میں 11نکاتی ایجنڈے پر بحث ہوئی اور صدر تنظیم نے سالانہ رپورٹ پیش کی اور تنظیم کے دو فعال ممبران حاجی محمد افراہیم خان (باغ ) اور محمد اقبال خان (تیتری نوٹ ) کو تنظیم کا مرکزی نائب صدور نامزد کیا گیا جس کی منظوری ایگزیکٹو باڈی نے دی ، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تنظیم کو فعال بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور رواں سال نومبر کے آخری ہفتے میں جنرل کونسل کا اجلاس راولپنڈی میں منعقد کیا جائے گا ، اجلاس میں اسکالر شپ پروگرام جاری رکھنے ، آئین میں پائی جانے والی خامیاں دور کرنے اور روابط کاری کو فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا اور فنڈ ریزنگ کے مختلف طریقوں اور تنظیم کے اثاثہ جات کو محفوظ کرنے پر بھی غور کیا گیا ، ممبران نے صدر جماعت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا ، اجلاس میں یہ بھی طے پایا گیا کہ تنظیم کو دیگر سماجی تنظیموں کے ساتھ ملکر کام کرنے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور صدر تنظیم اس کا اہتمام کرینگے ۔


سرینگر (مانیٹرنگ ڈسک )انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرفیو کی سخت پابندیوں کے باوجود سری نگر کے مخلتف علاقوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں 30 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق جمعہ کی نماز کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی اپیل پر آزادی مارچ نکالنے کی کوششیں کی گئی۔ اس موقع پر پولیس نے نہتے مظاہرین پر پیلٹ گنوں کا استعمال کیا جس سے 30 شہری زخمی ہو گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پرانے سری نگر میں شدید کشیدگی پائی گئی۔ سری نگر کے علاقوں رام باغ، جواہر نگر، سوناوار اور ڈل گیٹ کے علاقوں میں جہاں گزشتہ کئی دنوں سے کرفیو میں کچھ نرمی کی جا رہی تھی وہاں بھی جمعہ کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے سختی کی اور لوگوں کو گھروں سے نکلے کی اجازت نہیں دی۔یاد رہے کہ کشمیر میں جولائی کی آٹھ تاریخ سے شدید مظاہرے جاری ہیں اور سری نگر اور دیگر علاقوں میں کرفیو نافذ ہوئے 77 دن ہو گئے ہیں۔ گذشتہ 11 ہفتوں سے کشمیر کی تمام بڑی مساجد اور درگاہوں میں جمعے کے علاوہ عید کی نمازیں نہیں ہو سکی ہیں۔آٹھ جولائی کو 22 سالہ کشمیری نوجوان برھان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہروں کو گذشتہ تیس برس میں سب سے شدید قرار دیا جا رہا ہے۔بھارتی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں جن میں سے اکثر آنکھوں میں چھرے لگنے سے اپنی بینائی جوزی یا مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔دریں اثناءجموں اور کشمیر کی ہائی کورٹ نے نہتے مظاہرین پر پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال کے خلاف مفاد عامے کے تحت دائر کی گئی ایک درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ پیلٹ گنوں کے استعمال کے بغیر سکیورٹی فورسز کے لیے مظاہروں پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔سری نگر سے جنوب کی جانب ضلع بڈگام میں چرار شریف سے نکلنے والے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے وہاں بھی کرفیو نافذ کر دیا۔کشمیر میں 77 دن سے کرفیو کے علاوہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے موبائل فون اور انٹرنیٹ بھی بند کیا ہوا ہے اور کشمیر کے لوگوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔


انڈیا کے زیرانتظام کشمیر شمالی قصبے اُڑی میں انڈین فوج کے ہیڈکوارٹر پر مسلح حملے میں 17 بھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔ شمالی کشمیر میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب ضلع بارہ مولا کے قصبے اُڑی میں انڈین سیکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان تصادم پانچ گھنٹوں تک جاری رہا۔ انڈین فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں چار مسلح حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ جموں میں مقیم بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان نے حملے میں 17 فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ گذشتہ 14 سال میں بھارتی فوج پر ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق یہ اسے ایک فدائی حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ ٭ ’کشمیر کے لیے آزاد، منصفانہ بین الاقوامی مشن ضروری‘ ٭ ’کشمیری خون گلیوں نالیوں میں بہہ رہا ہے‘ ٭ ’پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جانا چاہیے‘ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سرینگر سے شمال کی جانب 105 کلومیٹر دُور واقع اُڑی قصبہ میں واقع بھارتی فوج کے برگیڈ ہیڈکوارٹر میں اتوار کی صبح ساڑھے پانچ بجے کیا گیا۔ واضح رہے اُڑی سے لائن آف کنٹرول صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سرینگر میں تعینات فوج کی 15 ویں کور کے ترجمان کا الزام ہے کہ ’جدید ہتھیاروں سے لیس یہ حملہ آور چند روز پہلے ہی ایل او سی عبور کر کے بھارتی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔‘جوابی آپریشن میں شامل ایک فوجی افسر نے بتایا کہ شدت پسندوں نے برگیڈ ہیڈکوارٹر کے ایک آفس کمپلیکس میں داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کردی۔ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے انڈین فوج کے پیرا کمانڈوز کو جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جائے واردات پر اتارا گیا۔ ساڑھے پانچ گھنٹوں کے مسلح تصادم کے دوران مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ زخمی فوجیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرینگر میں واقع فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔اس حملے کے بعد نئی دلّی کی وزارت دفاع اور وزارت داخلہ نے ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا ہے۔ وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس حملے پیش نظر روس اور امریکہ کا دورہ منسوخ کردیا۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ بھی حالات کا جائزہ لینے کے لیے کشمیر پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل کپوارہ، پونچھ اور جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں فوجی اور نیم فوجی تنصیبات پر مسلح حملے ہوئے ہیں۔ انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے اسے ’مشتبہ فدائی‘ حملہ قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ آٹھ جولائی کو مشتبہ کشمیری شدت پسند برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں موت کے بعد سے کشمیر وادی میں صورتحال کشیدہ ہے۔ مظاہرین کے خلاف فورسز کی کاروائیوں میں اب تک 85 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد بارہ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے پتھراؤ کی وجہ سے ساڑھے پانچ ہزار فورسز اہلکار بھی زخمی ہیں۔ اُڑی میں مسلح حملے کے بعد پورے بارہ مولا ضلع میں فوج نے تلاشی مہم شروع کردی ہے۔ فوج کو شبہہ ہے کہ ضلع میں مزید شدت پسند موجود ہیں جو فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ دوسال قبل اسی ضلعے میں موہرا کے مقام پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔



Head Office Dharti : 0092 5824 445864
E-mail:dailydhartiajk@gmail.com

   A PROJECT OF : EARTH VISSION PUBLICATION PVT.LTD

Powered by Solution's