تازہ خبریں

Roznama Dharti FB Banner
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں
Click Here to View the picture
دبئی ۔۔۔۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا دورہ یو اے ای ۔۔۔ مختکیف تقاریب میں شرکت ،وفود کی ملاقاتیں

اسلام آباد .....وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے انھیں ظہرانے پر مدعو کیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی نے اپنے استعفے سیکریٹری قومی اسمبلی کے حوالے کر دیے ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے تصدیق کی کہ میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے رابطہ کیا ہے اور وہ ان سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔ دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس میں اسلام آباد میں جاری دھرنوں اور اس کے تناظر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بلاول ہاؤس کے ترجمان جمیل سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ، سینیٹر رضا ربانی اور اعتزاز احسن سے سابق صدر کی اہم ملاقات جاری ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری گذشتہ شب دبئی سے کراچی پہنچے ہیں اور جمعے کی صبح سے انہوں نے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سے پہلے جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم ثالثی کا کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی تھیں لیکن پیپلز پارٹی کی صفوں میں خاموشی تھی۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اپنی جماعت کے ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے سربمہر لفافوں میں سیکریٹری قومی اسمبلی کے حوالے کر دیے ہیں۔ استعفے جمع کرانے کے بعد شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام اراکین کے استعفے جمع کرا دیے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور جمشید دستی اپنی استعفے خود جمع کرائیں گے۔ ادھر سیکریٹری قومی اسمبلی ریاض حسین کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ان استعفوں کا جائزہ لیں گے۔ اس سے پہلے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے ہزاروں کارکن ملک کی مختلف جیلوں میں بند ہیں جنھیں اب تک رہا نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ میرے گھر میں حملے کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کنٹینر ہٹا دے اور پولیس کا جو کریک ڈاؤن تھا، اس کو واپس لے: ’ہم سیاسی لوگ ہیں ہم مذاکرات کیو ں نہیں کریں گے؟‘ انھوں نے مزید کہا کہ ایک شخص یا دو بھائیوں کی ہٹ دھرمی سے اگر پورا نظام داؤ پر لگ جائے تو انھیں سوچنا چاہیے کہ انھیں پاکستان کے مفادات عزیز ہیں یا اپنی حکومت۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ عام انتخابات شفاف نہیں تھے اور یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے، ’کیا سابق صدر آصف علی زرداری نے یہ نہیں کہا؟ کیا پیپلز پارٹی کا یہ موقف نہیں رہا؟ کیا لیڈر آف دی اپوزیشن سید خورشید شاہ یہ نہیں کہتے رہے کہ یہ جعلی مینڈیٹ ہے؟ تو یہ ہمارے موقف کی تائید ہے کہ یہ انتخابات جعلی تھے۔‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس بحران کا حل نئے انتخابات ہیں، ایک الیکشن کمیشن کی تشکیل ہے، ایک ایسے نگراں سیٹ اپ کی تشکیل ہے جو واقعتاً غیر جانب دار ہے۔ سینیٹ میں قرارداد اس سے قبل ایوان بالا یعنی سینیٹ میں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے متعلق قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی کی جانب سے پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ ایوان آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتا ہے۔ قرارداد میں کہاگیا کہ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایوان میں آزادی اور انقلاب مارچ کے ہجوم کی جانب پارلیمنٹ ہاؤس کے محاصرے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد ایک تحریک استحقاق جمع کرائی۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ احتجاج کرنے والی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے خلاف ہتک آمیز زبان کے استعمال پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی اور جمہوری تاریخ میں یہ بات کہیں نہیں ملتی کہ ایک ہجوم نے پارلیمنٹ کا داخلی راستہ بند کر دیا ہو۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ایوان کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔



Head Office Dharti : 0092 5824 445864
E-mail:dailydhartiajk@gmail.com

   A PROJECT OF : EARTH VISSION PUBLICATION PVT.LTD

Powered by Solution's