تازہ خبریں

Roznama Dharti FB Banner

پاکستان کی قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم اور مسلح گروپوں کی حمایت کے مطالبات کی حوصلہ افزائی نہ کرے۔ قائمہ کمیٹی کے پیر کو ہونے والے اجلاس کی کارروائی سے متعلق سرکاری طور پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کے ان خدشات کو دور کیا جائے کہ پاکستان اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم شدت پسند عناصر کا تدارک نہیں کر رہا اور اس لیے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان پر نظر رکھی جائے۔ بھارتی حکام یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ ان کے ملک میں شدت پسندی کی کارروائیاں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے شدت پسند عناصر کرر ہے ہیں جبکہ پاکستانی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس اجلاس میں بھارت کے ساتھ تعقلات بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ حکومتی بیان کے برعکس قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں شریک پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا کہ جس طرح پاکستان میں افغانستان کی سر زمین سے ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں سے متعلق افغان حکام کو آگاہ کرتا ہے اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی ایسے روابط ہونے چاہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی شدت پسندی کے واقعہ سے متعلق ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جانا چاہیے تاکہ ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت روایتی جنگ کے لیے ہتھیار اکھٹے کر رہا ہے اور میدان جنگ یہی علاقہ ہوگا جس پر پاکستان کو تشویش ہے۔ اس اجلاس میں شریک حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری کی جانب سے یہ تجویز آئی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سول نیوکلیئر تنصیبات کا مشترکہ کنٹرول ہونا چاہیے تاہم اس سے دیگر ارکان نے اتفاق نہیں کیا۔ قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس سے متعلق جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مذید کہاگیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کمشیر میں کمشیروں کے خلاف ریاستی جبر میں کمی واقع ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی سے متعلق سنہ 2003 میں ہونے والے معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے۔ اس اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی دی گئیں ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کاوشیں ہونی چاہییں۔



Head Office Dharti : 0092 5824 445864
E-mail:dailydhartiajk@gmail.com

   A PROJECT OF : EARTH VISSION PUBLICATION PVT.LTD

Powered by Solution's