تازہ خبریں

Roznama Dharti FB Banner

راولاکوٹ(سٹی رپورٹر) راولاکوٹ کے نواحی گاؤں ڈچھاں چمبہ ناڑ (دریک)میں قتل ہو نے والے ڈرائیور محمد یونس کو اتوارکو ان کے آبائی قبرستان دریڑھ دھمنی نزد ائیرپورٹ سپر د خاک کر دیاگیا ہے جبکہ قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گورنمنٹ ڈگری کالج ہجیرہ میں تعینات اسسٹنٹ پروفیسر اشتیاق احمد نے از خود گرفتاری دے دی اور آلہ قتل بھی جمع کروا دیاہے ۔ یہ واقعہ ہفتہ کو مغرب کے وقت راولاکوٹ کے نواحی گاؤں چمبہ ناڑ دریک میں پیش آیا تھاجس کی اطلاع ماڈل تھانہ راوالاکوٹ کو دی گئی ۔پولیس نے اسسٹنٹ پروفیسر اشتیاق احمد کے گھر سے ایک لاش برآمد کی تاہم اس وقت ان کے گھر میں کوئی فرد موجود نہیں تھا ۔ گھر کے مالکان مکان خالی کر کے کئی چلے گئے تھے ۔ قتل ہونے والا محمد یونس نامی شخص جس کاتعلق گاؤں دھمنی اور اعوان برادری سے ہے اسسٹنٹ پروفیسر اشتیاق احمد کی ذاتی پرائیوٹ گاڑی (کیری ) چلا رہا تھا جو بچوں کو سکول لے جانے اور لانے کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔ایس ایچ او سٹی تھانہ نے بتایا ہے کہ محمد اشتیاق خان نے اتوار کی صبح گرفتاری دے دی ہے آلہ قتل بھی برآمد ہوگیا ہے ۔ جبکہ پولیس مصروف تفتیش ہے ۔ وجہ قتل کے حوالہ سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں جس کے باعث حتمی طور پر کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ۔ایس ایچ او ماڈل تھانہ کے مطابق گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران اقبال جرم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مقتول کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے محض ڈرانے دھمکانے کے لیے پستول لے آیا تھا لیکن غیر ارادی طور پر ایسا ہو گیا۔بیان میں یہ بھی کہا کہ مقتول کے ساتھ کوئی لین دین نہیں تھا صرف ایک ماہ کی تنخواہ نو ہزار روپے دینے تھے۔قتل کی وجہ بیان کرتے ہوئے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ مقتول میرے بچوں کو سکول لے جاتا تھا اور اس کا رویہ غیر اخلاقی تھا جس کی تصدیق اس کی موجودگی میں میری بچی نے بھی کی جس کے بعد میں جذبات پر قابو نہ پا سکا اور گولی چلادی۔دریں اثناء اتوار کو مقتول محمد یونس کے ورثاء نے ملزم کی عدم گرفتاری کے باعث نعش دفنانے سے انکار کر دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی تو وہ احتجاج کریں گئے اور نعش اس وقت تک نہیں دفنائیں گئے جب تک ملزم گرفتار نہیں کیا جاتا ،بعد ازاں ملزم کی گرفتاری کے بعد نعش سپرد خاک کر دی گئی ۔اس واقعہ کے بعد علاقے میں سخت خوف وہراس پایا جاتا ہے۔مقتول کے ورثاء نے ملزم کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثناء محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے کالج کے پرنسپل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جس کے بعد قواعد کے تحت تنخواہ بند معطل کر دیا جائے گا۔



Head Office Dharti : 0092 5824 445864
E-mail:dailydhartiajk@gmail.com

   A PROJECT OF : EARTH VISSION PUBLICATION PVT.LTD

Powered by Solution's