تازہ خبریں

Roznama Dharti FB Banner

راولاکوٹ(سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہی صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں۔ اس سے پورا ملک بری طرح متاثر ہوا۔ دعا کرتے ہیں آنے والے دنوں میں صوبہ سندھ جہاں ابھی تک سیلاب نہیں پہنچا اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھے۔ نیلم جہلم ہائیڈل منصوبے کی تکمیل سے آزاد کشمیر کی بجلی کی ضروریات بھی پوری ہوں گی۔آزاد کشمیر میں ترقی کرنے کی بہت ’’پوٹینشل‘‘ ہے۔ وہ پیر کے روز یہاں متاثرین بارش سے اظہار یکجہتی اور شدید بارشوں سے نقصان کے متعلق جائزہ لینے راولاکوٹ پہنچے۔جہاں ڈگری کالج میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب سے صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان، وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر راجہ محمد فاروق حیدر ، سپیکر اسمبلی سردار غلام صادق، وزیر ٹرانسپورٹ طاہر کھوکھر، ممبر اسمبلی و چیئرمین پبلک اکونٹس کمیٹی سردار عابد حسین عابد، اور امیر جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیر مولانا سعید یوسف، چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل، پرنسپل سیکرٹری فیاض علی عباسی، سیکرٹری ایس۔ڈی۔ایم۔اے اکرم سہیل اور دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے۔وزیر اعظم پاکستان نے شدید بارشوں کے نیتجہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں امدادی چیک بھی تقسیم کیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا کہ آزادکشمیر میں تمام شعبوں میں ترقی ہونی چاہیے۔ بالخصوص سیاحت اور ہائیڈل کے شعبوں میں ترقی کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آزا دکشمیر میں ترقی ہو اور لوگوں کے مسائل حل ہوں، حالیہ شدید بارشوں کے نتیجہ میں بڑی تباہی ہوئی اور عوام کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ حکومت متاثرین کی مشکلات میں ان کے ساتھ ہے اور ان مشکلات کے حل کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ترقی کی پوٹینشل موجود ہے۔ موقع ملا تو دوبارہ بارشوں سے متاثرہ علاقوں پلندری کا دورہ کروں گا۔ نیلم جہلم کا منصوبہ تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے یہ منصوبہ 2017 تک مکمل ہو جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس کی لاگت کا تخمینہ 50 ارب تھا جو بڑھ کر 250 ارب تک پہنچ چکا ہے اس منصوبے کی تکمیل سے حاصل ہونے والی بجلی آزاد کشمیر کو بھی ملے گی اور آزاد کشمیر کی تمام ضرورت پوری ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اندر بڑے باصلاحیت لوگ ہیں جو تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں میں بھی بہت صلاحیتیں ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاحت کی ترقی کی بہت گنجائش موجود ہے نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر سے سیاحوں کو یہاں متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ مظفرآباد کے علاوہ بھی کسی جگہ پر قیام کر سکتا ہوں تاکہ آزاد کشمیر کی ترقی کا جامع منصوبہ بنائیں۔ فنڈز کی فکر نہ کریں۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ آپ لوگ بیٹھ کر آزاد کشمیر کی ترقی کا خاکہ تیار کریں ایک بار اگر خاکہ تیار ہو جائے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے تو آنے والی حکومتیں بھی اس ترقیاتی منصوبے کے لیے رقم مختص کرنے پر مجبور ہوں گی۔ یہی ترقی کا صحیح راستہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاحت، صنعت، سڑکیں، ائرپورٹس اور زراعت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ زرعی ترقی کی بھی بہت گنجائش ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مظفرآباد سے تاؤ بٹ تک خوبصورت سڑک تعمیر ہونی چاہیے جس کا ایک حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ راولپنڈی مظفرآباد ریلوے منصوبے کے لیے کنسلٹنٹ مقرر کر دئیے۔ 6 ماہ میں فزیبلٹی رپورٹ تیار ہو جائیگی اور یہ منصوبہ 2 سال میں مکمل ہو گا۔ وزیر اعظم نے بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ یہ شہداء کی دھرتی ہے ان شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے آج چوہدری عبدالمجید وزیر اعظم اور میں صدر ریاست ہوں۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی طرف جموں وکشمیر کونسل کا بجٹ اجلاس مظفرآباد کرنے اور مظفرآباد راولاکوٹ ائرپورٹس کی بحالی کا اعلان کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یہاں کا دورہ کر کے آزاد کشمیر کے متاثرین بارش کی دل جوئی کی۔ ان کی متاثرہ علاقوں میں آمد سے آر پار کشمیریوں کے حوصلہ بلند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا بڑا بھائی اور بھارتی تسلط سے آزادی کے بعد کشمیریوں کی منزل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر آج بھی کشمیر تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مضبوط و مستحکم پاکستان مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے۔ شدید بارشوں سے جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف بہت تباہی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے آزاد کشمیر کے متاثرین بارش کی امداد کی پیشکش کو مسترد کرتے ہیں بھارت کا کشمیریوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔ وہ ایک غاصب ملک ہے جس نے 67 سال سے کشمیریوں کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت دبا رکھا ہے اور اب کشمیر پر اپنے غاصابنہ قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے نئے نئے حربے استعمال کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے نتیجہ میں ہولناک تباہی ہوئی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ہماری مدد کو پہنچنے پر وزیر اعظم نواز شریف، پاکستان کی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ آزاد کشمیر سے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی عوام کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کے نتیجہ میں آزاد کشمیر میں بڑے جانی نقصان کے علاوہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔ جو ہم انشاء اللہ جلد بحال کر دیں گے۔ ہمارے جذبے جوان ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں گہری دلچسپی لینے اور میگا منصوبے دینے پر بھی ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ بارش اور سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے جوانوں نے دن رات ایک کر دی اور عوام کو مشکل سے نکالنے کے لیے اپنی خدمات اس مرتبہ پھر قوم کو پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ایک طرف دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے تو دوسری طرف سیلاب زدہ علاقوں میں امداد سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بہادر مسلح افواج کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور سیاسی امور کی انچارج محترمہ فریال تالپور کی طرف سے متاثرین کے دکھ میں شریک ہو کر ان کی امداد میں کردار ادا کرنے پر بھی شکریہ ادا کیا۔ دریں اثناء وزیر اعظم پاکستان کو چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے نتیجہ میں چھتیں گرنے، پانی میں بہہ جانے، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر واقعات میں کل 64 اموات ہوئیں۔ 109 افراد زخمی اور 29406 افراد بے گھر ہوئے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کی امداد پر 3 کروڑ 85 لاکھ، 40 ہزار روپے ادائیگیوں پر خرچ ہوں گے۔ چیف سیکرٹری نے مزید بتایا کہ 1132 رابطہ سڑکیں تباہ ہوئیں جن پر سے 82 کروڑ 23 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ 175 پل تباہ ہوئے جس سے 26 کروڑ 90 لاکھ، 581 واٹر سپلائی سکیمیں تباہ ہوئیں جس سے 8 کروڑ 71 لاکھ 50 ہزار روپے ، 11 عمارتیں تباہ ہوئیں جس سے 33 لاکھ 46 ہزار روپے اور متفرق نقصانات میں 47 چھوٹی بڑی عمارتوں سے 2 کروڑ 60 لاکھ روپے کے نقصانات ہوئے جبکہ 670 کلومیٹر سڑکوں کو جزوی نقصان پہنچا جس سے ایک ارب 75 کروڑ، 15 پلوں کے جزون نقصان سے 44 کروڑ 60 لاکھ اور واٹر سپلائی سکیموں کے تباہ ہونے سے 5 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کی لائنوں کے جزوی نقصان سے 9 کروڑ 50 لاکھ، 10 پاور ہاؤسز کے نقصان سے 6 کروڑ 50 لاکھ اور ہائیڈل کے 9 زیر تعمیر منصوبوں کا 17 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اس طرح انسانی اور نجی جائیداد کا نقصان 49 کروڑ 43 لاکھ 30 ہزار سرکاری انفراسٹرکچر کا 3 ارب 78 کروڑ 67 لاکھ 96 ہزار روپے اور مجموعی طور پر 4 ارب 28 کروڑ 11 لاکھ 26 ہزار روپے کا نقصان ہوا جبکہ فصلوں کی تباہی سے ہونے والے نقصان کا سروے کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں وزیر اعظم پاکستان جب راولاکوٹ پہنچے تو ہیلی پیڈ پر صدر ریاست سردار محمد یعقوب خان، وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید، سپیکر سردار غلام صادق، وزیر ٹرانسپورٹ طاہر کھوکھر، چیئرمین پبلک اکونٹس کمیٹی سردار عابد حسین عابد، چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل اور دیگر نے ان کا استقبال کیا-



Head Office Dharti : 0092 5824 445864
E-mail:dailydhartiajk@gmail.com

   A PROJECT OF : EARTH VISSION PUBLICATION PVT.LTD

Powered by Solution's