کراچی کے دو معاہدے اور مسئلہ کشمیر۔۔۔ ایک تقابلی جائزہ

0

قیام پاکستان کے فوراً بعد برصغیر میں جن بڑے سیاسی اور عسکری مسائل نے جنم لیا، ان میں مسئلہ کشمیر سب سے نمایاں تھا۔ 1947 کی جنگ، ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم، مہاجرین کا بحران اور بین الاقوامی سفارتی کشمکش نے جنوبی ایشیا کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ انہی پیچیدہ حالات میں کراچی دو ایسے اہم معاہدوں کا مرکز بنا جنہوں نے نہ صرف کشمیر بلکہ گلگت بلتستان اور پاک بھارت تعلقات کی آئندہ سمت بھی متعین کی۔ یہ معاہدے”کراچی معاہدہ 28 اپریل 1949“اور”کراچی جنگ بندی معاہدہ جولائی 1949“تھے۔ اگرچہ دونوں معاہدے ایک ہی سال اور ایک ہی شہر میں طے پائے، لیکن ان کی نوعیت، مقاصد اور اثرات مختلف تھے۔
پہلا معاہدہ 28 اپریل 1949 کو حکومت پاکستان، آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان طے پایا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں کے انتظامی امور کو منظم کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دفاع، خارجہ امور، مہاجرین کے معاملات، اقوام متحدہ میں کشمیر مقدمے کی نمائندگی اور گلگت بلتستان کے انتظامی امور پاکستان کے سپرد کیے گئے۔ یوں یہ معاہدہ ایک سیاسی و انتظامی نوعیت کا معاہدہ تھا، جس نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقبل کے حکومتی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔
اسی سال جولائی 1949 میں دوسرا کراچی معاہدہ Iانڈیا اور پاکستان کے فوجی نمائندوں کے درمیان اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے پایا۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر فوجی اور عسکری نوعیت کا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی لائن کا تعین کرنا اور کشمیر میں جاری فوجی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ سیز فائر لائن قائم ہوئی، جو بعد ازاں 1972 کے معاہدہ شملہ کے بعد لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کہلائی۔
اگر دونوں معاہدوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اپریل 1949 کا معاہدہ داخلی نظم و نسق اور سیاسی اختیارات کی تقسیم سے متعلق تھا، جبکہ جولائی 1949 کا معاہدہ جنگ بندی، سرحدی حد بندی اور فوجی استحکام کے لیے تھا۔ ایک معاہدے نے داخلی سیاسی نقشہ ترتیب دیا، جبکہ دوسرے نے زمینی سرحدی حقیقت کو شکل دی۔گلگت بلتستان کے تناظر میں اپریل والا معاہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسی کے بعد یہ علاقہ براہ راست پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں شامل ہوا۔ دوسری طرف جولائی معاہدے نے کشمیر کے متنازع علاقوں کو عسکری لحاظ سے تقسیم کر دیا، جس کے اثرات آج بھی لائن آف کنٹرول کی صورت میں موجود ہیں۔
دونوں معاہدوں میں اقوام متحدہکا کردار بھی نمایاں رہا، مگر نوعیت مختلف تھی۔ اپریل معاہدہ مقامی و داخلی انتظامی بندوبست تھا، جبکہ جولائی معاہدہ بین الاقوامی ثالثی اور سفارتی نگرانی کے تحت طے پایا۔ یہی وجہ ہے کہ جولائی معاہدے کو عالمی سطح پر زیادہ شہرت ملی، جبکہ اپریل معاہدہ زیادہ تر آئینی اور سیاسی مباحث میں زیر بحث آتا ہے۔کشمیر کو خودمختار ریاست بنانے کی جدوجہد میں مصروف بعض سیاسی جماعتیں اپریل 1949 کے اس“معاہدہ کراچی”کو خودمختار ریاست کے قیام میں بڑی رکاوٹ اور ریاست کی وحدت سے محرومی کے مترادف قرار دیتی ہیں۔ دوسری جانب آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنسسمیت پاکستان حامی حلقے اسے ایک تاریخی دستاویز تصور کرتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ دونوں معاہدے مسئلہ کشمیر کے دو مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک نے ریاستی انتظامیہ، نمائندگی اور اختیار کے سوالات کو جنم دیا، جبکہ دوسرے نے سرحد، فوجی توازن اور جنگ بندی کے مسائل کو جنم دیا۔ آج بھی گلگت بلتستانکی آئینی حیثیت، آزاد کشمیر کے اختیارات اور لائن آف کنٹرول کی قانونی حیثیت پر ہونے والی بحث میں ان دونوں معاہدوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 1949 میں کراچی میں ہونے والے یہ دونوں معاہدے جنوبی ایشیا کی تاریخ کے اہم موڑ ثابت ہوئے۔ ایک نے کشمیر کے سیاسی مستقبل پر اثر ڈالا اور دوسرے نے اس کے جغرافیائی و عسکری منظرنامے کو تشکیل دیا۔ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ان معاہدوں کے اثرات آج بھی خطے کی سیاست، سفارت کاری اور امن و استحکام پر واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپریل 1949 میں ہونے والے معاہدہ کراچی کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے اور ایک مخصوص نظریہ رکھنے والی سیاسی جماعتیں ہر سال 28 اپریل کو احتجاجی مظاہرے اور سیمینار منعقد کرتی ہیں جس کا مقصد اس معاہدے کو ختم کرنے کی مہم کو تقویت پہنچانا اور نئی نسل کو اس معاہدے سے روشناس کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاہدے نصاب سازی کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر مفروضوں پر قائم ہیں اور ان کی حمایت یا مخالفت کرنے والے اس طرح کے موضوعات پر ڈائیلاگ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی”غداری“ کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں جس سے معاہدوں کی اصل روح کو سمجھنے میں مشکلات آتی ہیں اور ایک سے زائد نسل محض سنی سنائی باتوں پر ہی یقین کرتی ہے۔زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر کشادہ دلی سے بحث و مباحثہ ہو،دلیل کے ساتھ بات کی جائے اور پھر ایک مشترکہ دستاویز مرتب کی جائے تا کہ آنے والی نسلوں کی لیے چیزوں کو سمجھنے یا پرکھنے میں آسانی ہو بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کو ”غدار“ کہا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں