آزادکشمیر کابینہ کی جانب سے وویمن یونیورسٹی باغ اورآزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفراابادکو ون ٹائم گرانٹ فراہم کر کے مالی معاونت دینا بلاشبہ ایک خوش آئند اور مثبت اقدام ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے ادارے کسی بھی معاشرے کی فکری، سماجی اور معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی تعاون قابلِ تحسین ہے۔ ایسے فیصلے نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں بلکہ طلبہ و طالبات کے مستقبل کو بھی محفوظ بناتے ہیں۔
تاہم اس فیصلے کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر دو جامعات مالی مشکلات کا شکار تھیں تو کیا دیگر جامعات اس صورتحال سے مکمل طور پر محفوظ ہیں؟ خصوصاً یونیورسٹی آف پونچھ بھی طویل عرصے سے مالی دباؤ، ترقیاتی ضروریات اور انتظامی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر صرف مخصوص اداروں کو امداد دی جائے اور دیگر جامعات کو نظر انداز کیا جائے تو اس سے ناانصافی کا تاثر پیدا ہونا فطری امر ہے۔
تعلیم کے شعبے میں پسند و ناپسند یا علاقائی بنیادوں پر فیصلے کسی بھی حکومت کے لیے نیک نامی کا سبب نہیں بن سکتے۔ ریاست کے تمام اضلاع اور تمام تعلیمی ادارے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو اسے ایک جامع اور شفاف پالیسی کے تحت تمام جامعات کی مالی ضروریات کا جائزہ لے کر مساوی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرنے چاہئیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات کی معاونت وقتی اور نمائشی اقدامات تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل بنیادوں پر مالی استحکام، تحقیقی فنڈنگ، انفراسٹرکچر کی بہتری اور فیکلٹی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ اگر کسی ایک جامعہ کو ریلیف دیا جائے اور دوسری کو انتظار کی فہرست میں رکھا جائے تو اس سے شکوک و شبہات ہی جنم لیتے ہیں۔
حکومت آزادکشمیر کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر نظرثانی کرے اور تمام سرکاری جامعات کے لیے مساوی اور منصفانہ مالی پیکیج کا اعلان کرے تاکہ تعلیمی ادارے سیاسی ترجیحات نہیں بلکہ ریاستی ترقی کا محور بن سکیں۔
جامعات کی مالی معاونت۔۔۔مساوی پالیسی وقت کی ضرورت
0








