برصغیر میں بلند آواز مقرر۔۔۔ اچھا لیڈر کیوں؟

0

برصغیر کی سیاست میں ایک دلچسپ اور نمایاں رجحان یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو سیاسی رہنما جلسوں میں بلند آواز، جوشیلے انداز اور جذباتی لہجے میں تقریر کرتا ہے، اسے عموماً طاقتور اور مؤثر لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو مقرر دھیمے، نرم اور پرسکون انداز میں گفتگو کرے، اسے اکثر کمزور، غیر متحرک یا عوامی کشش سے محروم سمجھا جاتا ہے۔ یہ رجحان صرف اتفاقی نہیں بلکہ اس کے پیچھے تاریخی، سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی عوامل کارفرما ہیں۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں قیادت کے انداز مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے جہاں برصغیر میں بلند آواز قیادت کی علامت سمجھی جاتی ہے، وہیں کئی ترقی یافتہ ممالک میں تحمل، دلیل اور متوازن گفتگو کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
برصغیر یعنی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ عوامی جلسوں، جلوسوں اور عوامی خطابت سے جڑی ہوئی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں سیاسی پیغام عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے جلسے ہی سب سے مؤثر ذریعہ تھے۔ اس زمانے میں نہ جدید میڈیا موجود تھا اور نہ ہی طاقتور ساؤنڈ سسٹم، اس لیے مقرر کو ہزاروں افراد تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے بلند آواز اور زور دار انداز اپنانا پڑتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی انداز“قائدانہ انداز”سمجھا جانے لگا۔ بعد میں کئی مقبول رہنماؤں نے اسی اسلوب کو اپنایا اور یہ سیاسی روایت کا حصہ بن گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی خطابت اس کی نمایاں مثال ہے۔ بھٹو عوامی جلسوں میں آواز کے اتار چڑھاؤ، جذباتی جملوں اور نعراتی انداز سے مجمع کو اپنے سحر میں لے لیتے تھے۔ اسی طرح اندرا گاندھی اور بال ٹھاکرے بھی پرجوش خطابت کے لیے مشہور تھے۔ ان رہنماؤں کی تقریروں میں دلیل کے ساتھ جذباتی اپیل شامل ہوتی تھی، جو برصغیر کے عوامی مزاج سے مطابقت رکھتی تھی۔

اس رجحان کی ایک بڑی وجہ برصغیر کی زبانی اور جذباتی ثقافت بھی ہے۔ یہاں صدیوں سے مشاعروں، مذہبی خطابات، صوفیانہ محفلوں اور عوامی مناظروں میں آواز کی قوت اور جذباتی انداز کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ برصغیر کے معاشروں میں مقرر کی شخصیت کا اثر صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے انداز، آواز اور جذباتی کیفیت سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسوں میں جو رہنما مجمع کو جذباتی طور پر متحرک کر دے، وہ زیادہ مقبول سمجھا جاتا ہے۔
سیاسی نفسیات بھی اس رجحان کی وضاحت کرتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق انسان لاشعوری طور پر بلند آواز، مضبوط جسمانی زبان اور اعتماد بھرے لہجے کو طاقت اور اختیار سے جوڑتا ہے۔ اس تصور کو ”اجتماع پر غلبہ قائم کرنا“کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان فطری طور پر ایسے شخص کو زیادہ بااثر سمجھتا ہے جو پراعتماد اور بلند آہنگ انداز میں گفتگو کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسوں میں زور دار تقریر سننے والے افراد مقرر کو زیادہ طاقتور لیڈر سمجھنے لگتے ہیں، چاہے اس کے دلائل کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں۔
برصغیر میں طویل عرصے تک کم شرح خواندگی بھی اس سیاسی کلچر کی ایک وجہ رہی۔ چونکہ عوام کی بڑی تعداد سیاسی منشور، پالیسی دستاویزات یا اخباری تجزیے پڑھنے کی بجائے تقاریر سن کر رائے قائم کرتی تھی، اس لیے سیاسی کامیابی کا انحصار خطابت پر بڑھ گیا۔ سیاست نعروں، جذباتی وابستگی اور عوامی جوش پر قائم رہی، یہی وجہ ہے کہ جلسوں میں“گرجنے”والے رہنما کو زیادہ عوامی پذیرائی ملی۔
یہ رجحان صرف برصغیر تک محدود نہیں۔ مصر، عراق اور کئی عرب ممالک میں بھی جذباتی خطابت کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ جمال عبدالناصر کی تقاریر عرب دنیا میں انقلابی جذبے کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ اسی طرح لاطینی امریکہ میں ہیوگو شاویز نے عوامی خطابت اور جذباتی انداز کے ذریعے وسیع عوامی مقبولیت حاصل کی۔ ان ممالک میں“پاپولسٹ سیاست”عوامی جذبات کو براہِ راست ابھارنے پر انحصار کرتی ہے۔
اس کے برعکس دنیا کے کئی ممالک میں سیاسی قیادت کا تصور مختلف ہے۔ سویڈن، ناروے اور فن لینڈ جیسے شمالی یورپی ممالک میں سیاست نسبتاً ادارہ جاتی اور پالیسی پر مبنی ہے۔ وہاں چیخنے چلانے یا غیر معمولی جذباتی انداز کو اکثر غیر سنجیدہ سمجھا جاتا ہے۔ عوام لیڈر سے ٹھوس پالیسی، دلیل اور تحمل کی توقع رکھتے ہیں۔
جاپان میں بھی نرم لہجہ اور شائستگی سماجی اقدار کا حصہ ہیں۔ وہاں حد سے زیادہ بلند آواز یا جارحانہ گفتگو کو بدتمیزی سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی پارلیمانی سیاست میں سخت تنقید ضرور ہوتی ہے مگر مستقل چیخنا قیادت کی نشانی نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں حاضر جوابی، دلیل اور سیاسی مہارت کو اہمیت حاصل ہے۔
امریکہ میں صورتحال نسبتاً متوازن ہے۔ وہاں بلند آواز اور جذباتی انداز رکھنے والے رہنما بھی کامیاب ہوئے، جیسے ڈونلڈ ٹرمپ، جبکہ پرسکون مگر مؤثر انداز رکھنے والے باراک اوباما بھی غیر معمولی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جمہوریتوں میں صرف آواز کی بلندی کافی نہیں بلکہ وژن، میڈیا اپیل، باڈی لینگویج اور پالیسی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عظیم قیادت صرف بلند آواز سے پیدا نہیں ہوتی۔ مہاتما گاندھی کی آواز نرم تھی مگر ان کا اخلاقی اثر بے مثال تھا۔ نیلسن منڈیلا اور انجیلا مرکل بھی دھیمے اور متوازن انداز کے باوجود دنیا کے مؤثر ترین رہنماؤں
میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی طاقت خطابت کے شور میں نہیں بلکہ وژن، استقامت، ادارہ سازی اور اعتماد میں تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر معاشرہ اپنی تاریخ، ثقافت اور سیاسی ماحول کے مطابق قیادت کا ایک مخصوص تصور پیدا کرتا ہے۔ برصغیر میں عوامی سیاست اور جذباتی اجتماعات کی وجہ سے بلند آواز اور جوشیلی خطابت اب بھی طاقتور قیادت کی علامت سمجھی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ معاشروں میں پرسکون اعتماد اور منطقی گفتگو کو بہتر قیادت سمجھا جاتا ہے۔ مستقبل میں جیسے جیسے تعلیم، سیاسی شعور اور ڈیجیٹل میڈیا کا اثر بڑھے گا، ممکن ہے برصغیر میں بھی قیادت کا معیار صرف بلند آواز کے بجائے دلیل، وژن اور کارکردگی پر منتقل ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں