کرپشن کا نام سنتے ہی ذہن میں اربوں روپے کے اسکینڈلز، بڑے بڑے ٹھیکے، کمیشن، جعلی فائلیں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تصویریں ابھرنے لگتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کرپشن ہمیشہ بڑی سطح سے شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کی ابتدا ء صرف ”پانچ“روپے سے ہوتی ہے۔ یہی پانچ روپے جب روزانہ، ہر گاہک اور ہر موقع پر وصول کیے جائیں تو مہینوں اور سالوں میں لاکھوں اور پھر کروڑوں روپے بن جاتے ہیں۔ یہی چھوٹی بے ایمانیاں دراصل معاشرے میں بڑے مالیاتی جرائم کی بنیاد بنتی ہیں۔
چند روز قبل مجھے اس حقیقت کا عملی مشاہدہ ایک پھل فروش کی دکان پر ہوا۔ میں نے 06کیلے خریدے جن کی مجموعی قیمت پچھتر روپے بنی۔ میں نے دکاندار کو سو روپے دیے تو اس نے واپس صرف بیس روپے دیئے۔ جب میں نے پوچھا کہ باقی پانچ روپے کہاں ہیں تو اس نے نہایت سادگی سے جواب دیا،”میرے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں“۔
میں نے اس سے کہا کہ اگر کھلے پیسے نہیں ہیں تو پھر تیس روپے دے دیں یا ایک کیلا مزید ڈال دیں۔ لیکن گاہک کو نقصان کیوں دے رہے ہیں؟ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ،“اسی طرح چلتا ہے“۔
یہ جملہ بظاہر معمولی تھا مگر اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی دکان پر روزانہ اندازے کے مطابق کتنے گاہک آتے ہیں؟ اس نے بتایا کہسامان زیادہ نہ بھی لیں تو تب بھی چونکی یہ مین روڈ ہے تو کم از کم سو افراد روز آتے ہیں۔ میں نے بعد میں حساب لگایا کہ اگر روزانہ سو گاہکوں سے صرف پانچ روپے اضافی لیے جائیں تو روزانہ پانچ سو روپے بنتے ہیں۔اگر یہی رقم پورے مہینے میں جمع کی جائے تو یہ پندرہ ہزار روپے بنتی ہے۔اور اگر اسی رقم کو سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو ایک لاکھ اسی ہزار روپے صرف“کھلے پیسے نہیں ہیں ”کے بہانے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ صرف ایک دکان کا حساب ہے۔ اب اگر یہی طریقہ کسی بازار، شہر یا پورے ملک میں ہزاروں دکاندار اختیار کریں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کی جیبوں سے کتنی بڑی رقم خاموشی سے نکالی جا رہی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم ایسی چھوٹی بے ایمانیوں کو جرم کی بجائے“چالاکی”سمجھنے لگے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں کرپشن صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ کہیں وزن میں کمی کی جاتی ہے، کہیں ناقص چیز اچھی بنا کر فروخت کی جاتی ہے، کہیں مصنوعی مہنگائی پیدا کی جاتی ہے اور کہیں کھلے پیسے نہ ہونے کا بہانہ بنا کر گاہک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ یہی چھوٹی بدعنوانیاں آہستہ آہستہ معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتی ہیں۔
اگر آزاد کشمیر جیسے محدود وسائل رکھنے والے خطے کی بات کی جائے تو صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ آزاد کشمیر کا مجموعی بجٹ تقریباً ایک سو دس ارب روپے کے قریب ہے، مگر ترقیاتی بجٹ محض تیس ارب روپے کے لگ بھگ رہ جاتا ہے۔ یہی ترقیاتی بجٹ سڑکوں، سکولوں، ہسپتالوں، پانی، بجلی اور دیگر عوامی منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے۔ عوام کی امیدیں بھی انہی منصوبوں سے وابستہ ہوتی ہیں کیونکہ ترقیاتی بجٹ ہی کسی خطے کی تعمیر و ترقی کا اصل پیمانہ ہوتا ہے۔بدقسمتی سے کرپشن اور کمیشن کی زیادہ تر شکایات بھی اسی ترقیاتی بجٹ کے گرد گھومتی ہیں۔ اگر فرض کیا جائے کہ تیس ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا صرف دس فیصد حصہ بھی کرپشن، رشوت یا کمیشن کی نذر ہو جائے تو اس کی مالیت تقریباً تین ارب روپے بنتی ہے۔آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار ہے۔ اگر اس تین ارب روپے کو فرضی طور پر ایک لاکھ پچیس ہزار ملازمین میں تقسیم کیا جائے تو فی ملازم اوسط حصہ تقریباً چوبیس ہزار روپے سالانہ رشوت کے بنتے ہیں۔
یقیناً حقیقت میں تقسیم اس طرح برابر نہیں ہوتی۔ مختلف گریڈز، اختیارات اور اثر و رسوخ کے مطابق حصے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اعلیٰ گریڈ کے افسران کے پاس منصوبوں، فنڈز اور ٹھیکوں کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے بڑے حصے بھی اکثر انہی سطحوں تک محدود رہتے ہیں، جبکہ نچلے درجے کے ملازمین نسبتاً کم فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ پھر سب ملازمین ایک جیسے نہیں ہوتے،مگر اصل نقصان ہمیشہ عوام اور ریاست کا ہوتا ہے۔لیکن جو بات سمجھانے کی ہے کہ سرکاری ملازم پھر بھی کم شرح کے ساتھ وصول کرتا ہے لیکن وہ تاجر جو پانچ روپے غیر محسوس طریقے سے لیتا ہے اس کی کرپشن اس سے زیادہ ہے۔
اصل مسئلہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ اعتماد کا خاتمہ بھی ہے۔ جب ایک عام شہری دکان پر جائے اور اسے یقین نہ ہو کہ اس سے درست رقم وصول کی جائے گی، جب نوجوان میرٹ کے بجائے سفارش اور رشوت کو کامیابی کی کنجی سمجھنے لگیں، جب ترقیاتی منصوبوں میں معیار کے بجائے کمیشن کو ترجیح دی جائے، تو پھر ریاست اور معاشرے پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی عدم اعتماد کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم بڑی کرپشن پر تو شور مچاتے ہیں مگر چھوٹی بے ایمانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی چھوٹی بدعنوانیاں بڑے مالیاتی جرائم کی بنیاد بنتی ہیں۔ جو شخص پانچ روپے کے معاملے میں دیانت دار نہیں، وہ موقع ملنے پر پانچ لاکھ یا پانچ کروڑ میں بھی دیانت داری نہیں دکھائے گا۔
اس صورتحال کا حل صرف سخت قوانین بنانے میں نہیں بلکہ اجتماعی شعور بیدار کرنے میں ہے۔ والدین کو بچوں میں دیانت داری پیدا کرنی ہوگی، تعلیمی اداروں کو اخلاقیات پر زور دینا ہوگا، مذہبی و سماجی رہنماؤں کو عملی کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ حکومت کو شفاف احتساب اور جدید نظام متعارف کرانے ہوں گے۔
عوام کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی۔ اگر کوئی دکاندار کھلے پیسے نہ ہونے کا بہانہ بنا کر اضافی رقم لیتا ہے تو خاموش رہنے کے بجائے سوال کرنا چاہیے۔ یہی سوال احتساب کی بنیاد بنتا ہے۔ ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتا بلکہ چھوٹے چھوٹے درست رویوں سے بنتا ہے۔ پانچ روپے کی معمولی بے ایمانی بظاہر چھوٹی لگتی ہے، مگر یہی رویہ اجتماعی سطح پر اربوں روپے کے نقصان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں آغاز اپنی روزمرہ زندگی سے کرنا ہوگا، کیونکہ قوموں کی تعمیر ہمیشہ چھوٹے مگر درست فیصلوں سے ہی ہوتی ہے۔
پانچ روپے کی خاموش کرپشن اور اربوں کا قومی نقصان
0






