میڈیکل کالجز کےایڈہاک ملازمین کا استحصال کب تک
آزادکشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجز میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے خدمات انجام دینے والا نان ٹیچنگ اسٹاف آج بھی مستقل ملازمت کے بنیادی حق سے محروم ہے۔ یہ وہ ملازمین ہیں جنہوں نے 10 سے 15 سال تک اداروں کو چلانے، انتظامی امور سنبھالنے اور تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا، مگر افسوس کہ انہیں آج تک محض“ایڈہاک”ملازم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انتظامی ناانصافی ہے بلکہ انسانی وقار اور ملازمتی تحفظ کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔
آزادکشمیر کے میڈیکل کالجز کا اپنا ایک باقاعدہ بورڈ موجود ہے، جو جامعات کے بورڈز کی طرز پر کام کرتا ہے۔ اس بورڈ کے قواعد و ضوابط میں تقرریوں سے لے کر کالج کے انتظامی معاملات تک تمام اصول واضح طور پر درج ہیں۔ انہی قواعد کے تحت نان ٹیچنگ اسٹاف کی بھرتیاں کی گئیں، ملازمین نے اپنی زندگیاں ان اداروں کے نام کر دیں، لیکن مستقل حیثیت دینے کے معاملے پر حکومتی رویہ ہمیشہ غیر سنجیدہ رہا۔
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ اگر تقرریاں بورڈ کے منظور شدہ قواعد کے تحت ہوئیں، ملازمین مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی کارکردگی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا، تو پھر انہیں مستقل کرنے میں رکاوٹ کیا ہے؟ دنیا بھر میں مستقل نوعیت کی آسامیوں پر طویل عرصے تک کام کرنے والے ملازمین کو قانونی اور اخلاقی طور پر مستقل کیا جاتا ہے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے، مگر یہاں الٹا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اب انہی ملازمین کے لیے نئے سروس رولز مرتب کیے جا رہے ہیں، حالانکہ یہ ملازمین کسی سول سروس کا حصہ نہیں بلکہ براہ راست حکومتی اداروں کے ملازم ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پہلے سے بورڈ کے قوانین اور تقرری کے قواعد موجود ہیں تو نئے رولز لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ عمل مسئلے کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کی کوشش نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصہ تک ایڈہاک بنیادوں پر ملازمین کو کام کروانا کسی بھی مہذب انتظامی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ ایسے ملازمین نہ صرف معاشی عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال بھی ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملازم جس نے اپنی جوانی ادارے کو دے دی ہو، اس کے لیے ہر چند ماہ یا سال بعد نوکری کے تسلسل کی فکر کرنا انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حکومتیں بدلتی رہیں مگر اس مسئلے کے مستقل حل کی جانب سنجیدہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ ہر دور میں یقین دہانیاں دی گئیں، کمیٹیاں بنیں، فائلیں چلتی رہیں، مگر ملازمین آج بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں برسوں پہلے تھے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو اس سے نہ صرف ادارہ جاتی استحکام متاثر ہوگا بلکہ نوجوان نسل میں سرکاری اداروں کے حوالے سے بداعتمادی بھی بڑھے گی۔
حکومت آزادکشمیر کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو محض ایک انتظامی فائل نہ سمجھے بلکہ اسے انسانی مسئلہ تصور کرے۔ ان ملازمین کو انہی قوانین اور قواعد کے مطابق مستقل کیا جائے جن کے تحت ان کی تقرریاں عمل میں آئیں۔ نئے سروس رولز بنانے کے بجائے پہلے سے موجود قانونی اور انتظامی ڈھانچے کو بروئے کار لاتے ہوئے مستقل بنیادوں پر حل نکالا جائے۔
ریاستی اداروں کی مضبوطی صرف عمارتوں یا بجٹ سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہوتی ہے جو خاموشی سے برسوں ان اداروں کو سنبھالے رکھتے ہیں۔ اگر ایسے ملازمین کو ہی عدم تحفظ کا شکار رکھا جائے گا تو اداروں میں احساسِ محرومی اور مایوسی جنم لے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت آزادکشمیر انصاف، شفافیت اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیکل کالجز کے نان ٹیچنگ اسٹاف کو ان کا جائز حق دے۔
میڈیکل کالجز کےایڈہاک ملازمین کا استحصال کب تک
0







