میرٹ کی بحالی کے لیے تھرڈ پارٹی تقرریاں ناگزیر

0

آزاد جموں و کشمیر میں سرکاری اداروں میں تقرریوں کا مسئلہ ہمیشہ سے عوامی بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ ماضی میں اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کو نظر انداز کر کے سفارشی اور سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اہل اور قابل نوجوانوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کے تحت سرکاری اداروں میں جریدہ اور غیر جریدہ ملازمین کی تقرریاں تھرڈ پارٹی کے ذریعے کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔
بدقسمتی سے بعض اداروں نے اس عدالتی فیصلے کی روح کے مطابق عملدرآمد کرنے کے بجائے روایتی طریقوں سے بھرتیاں جاری رکھیں۔ جامعات سمیت مختلف اداروں میں ایسی تقرریاں کی گئیں جن پر سوالات اٹھے اور میرٹ کی پامالی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ تاہم آزاد کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے جامعہ پونچھ میں کی گئی بعض تقرریوں کو کالعدم قرار دینا ایک واضح پیغام ہے کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت کا یہ اقدام دراصل اداروں کو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قانون اور میرٹ کی بالادستی ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ تھرڈ پارٹی کے ذریعے تقرریوں کا طریقہ کار اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں شفافیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک غیر جانبدار ادارہ امیدواروں کی اہلیت، قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر جانچ پڑتال کرتا ہے جس سے سفارش، اقربا پروری اور سیاسی دباؤ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری ملازمتوں کے لیے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ اگر تقرریاں شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں تو نہ صرف ان نوجوانوں کو انصاف ملے گا بلکہ اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی۔ خاص طور پر جامعات جیسے علمی اداروں میں اگر میرٹ کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے اثرات براہِ راست تعلیمی معیار پر پڑتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ عدالت کی جانب سے تقرریوں کو کالعدم قرار دینا صرف ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف دیگر اداروں کو بھی ایک واضح پیغام ملے گا بلکہ آئندہ کسی بھی ادارے کے لیے عدالتی احکامات سے انحراف کرنا آسان نہیں رہے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اور تمام سرکاری ادارے عدالت کے فیصلے کی روح کے مطابق فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ تھرڈ پارٹی کے ذریعے تقرریوں کا نظام مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے تاکہ شفافیت، میرٹ اور انصاف کا بول بالا ہو سکے۔
اگر واقعی آزاد کشمیر میں ایک مضبوط اور باصلاحیت انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا مقصود ہے تو میرٹ کو ہر قیمت پر مقدم رکھنا ہو گا۔ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ اسی سمت میں ایک مثبت اور امید افزا قدم ہے جسے عملی جامہ پہنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں