اسلام آباد / واشنگٹن (نیوز ڈیسک)بین الاقوامی سفارتی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکہ نے پاکستان کی وساطت سے ایران کو جنگ بندی کے لیے ایک *15 نکاتی جامع تجویز* (Ceasefire Proposal) ارسال کر دی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس، بشمول *نیویارک ٹائمز* اور *ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)* کے مطابق، یہ اہم دستاویز پاکستانی حکام نے تہران میں ایرانی قیادت تک پہنچائی ہے، جسے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی آخری بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔اس سفارتی عمل میں پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پاکستان کے آرمی چیف *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* اور امریکی صدر *ڈونلڈ ٹرمپ* کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں صدر ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی تجویز میں جوہری پروگرام پر مستقل پابندی، یورینیم کی افزودگی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو عالمی تجارت کے لیے کھلا رکھنے جیسی سخت شرائط شامل ہیں۔ بدلے میں امریکہ نے ایران پر عائد تمام معاشی پابندیاں ختم کرنے، اسے عالمی مالیاتی نظام میں دوبارہ شامل کرنے اور سول نیوکلیئر تعاون کی پیشکش کی ہے۔
اگرچہ ایرانی دفترِ خارجہ نے عوامی سطح پر کسی بھی براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم **رائٹرز** کے مطابق تہران اس تجویز کو ”مذاکرات کی بنیاد” کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس خبر کے منظرِ عام پر آتے ہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران اور روس کے تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کر سکتے ہیں تاکہ عالمی سپلائی چین متاثر نہ ہو۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد میں یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی فتح ہوگی، جو 1972 میں امریکہ اور چین کے درمیان پاکستان کی تاریخی ثالثی کی یاد تازہ کر دے گی۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جامع امن فارمولہ،تجزیاتی رپورٹ
0









