پونچھ سے اداروں کومنتقل اور کمزور کرنے کا خطرناک عمل

0

آزادکشمیر حکومت کی جانب سے پانچ مردانہ اور پانچ زنانہ ایلیمنٹری کالجز کو ختم کر کے ان کے اساتذہ و عملے کو دیگر اداروں میں ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ عوامی و سماجی طبقات میں بھی شدید تشویش کا باعث بنا ہے۔ یہ ادارے محض عمارتیں نہیں تھے بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے اہم مراکز تھے جہاں نئی تدریسی مہارتیں، جدید تعلیمی رجحانات اور نصابی اصلاحات سے متعلق تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان اداروں میں خامیاں موجود تھیں تو کیا ان کی اصلاح ممکن نہیں تھی؟ کیا کسی بھی ادارے کی کمزوری کا واحد حل اسے ختم کر دینا ہوتا ہے؟
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اساتذہ اس بنیاد کے معمار۔ اگر اساتذہ کی تربیت کے ادارے ہی بند کر دیے جائیں گے تو مستقبل میں تعلیمی معیار بہتر ہونے کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات کا محور اساتذہ کی جدید تربیت کو بنایا جاتا ہے جبکہ یہاں تربیتی مراکز ہی ختم کیے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تعلیمی نظام پہلے ہی بے شمار مسائل کا شکار ہے۔
پونچھ ڈویژن خصوصاً راولاکوٹ کے عوام اس اقدام کو محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ خطے کے ساتھ مسلسل ناانصافیوں کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پہلے پونچھ کے اہم ترقیاتی ادارے پی ڈی اے کو غیر فعال کیا گیا، پھر اہم سرکاری آسامیوں اور دفاتر کی منتقلی عمل میں آئی، اور اب تعلیمی اداروں پر وار کیا گیا ہے۔ ان اقدامات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ پونچھ کو دانستہ طور پر انتظامی، تعلیمی اور ترقیاتی لحاظ سے کمزور کیا جا رہا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سارے معاملے پر سیاسی قیادت کی خاموشی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ وہ نمائندے جو عوام کے ووٹوں سے اسمبلیوں تک پہنچے، آج اپنے ہی علاقوں کے تعلیمی و ترقیاتی حقوق پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ اگر عوامی نمائندے اپنے خطے کے بنیادی اداروں کے تحفظ کے لیے آواز بلند نہیں کریں گے تو پھر عوام ان سے کیا توقع رکھیں؟ خاموشی بعض اوقات رضامندی کا تاثر دیتی ہے اور یہی تاثر اس وقت عوامی حلقوں میں شدت سے پایا جا رہا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرے۔ اگر ایلیمنٹری کالجز میں اصلاحات، نصاب کی بہتری یا انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت تھی تو ان پر کام کیا جاتا۔ اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جاتا، نہ کہ انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا جاتا۔ کسی بھی معاشرے میں ادارے بڑی قربانیوں اور طویل جدوجہد سے قائم ہوتے ہیں، انہیں ختم کرنا آسان مگر دوبارہ بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت، سول سوسائٹی، اساتذہ تنظیمیں اور عوام مشترکہ طور پر اس معاملے پر سنجیدہ مکالمہ کریں تاکہ پونچھ اور آزادکشمیر کے تعلیمی مستقبل کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ کیونکہ جب تعلیم کمزور ہوتی ہے تو پورا معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں