ارشد شریف کیس — انصاف کی تلاش اور ریاستی ذمہ داری

0

معروف پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل کو تین سال گزرنے کو ہیں، مگر اس اندوہناک واقعے کے گرد پھیلا ہوا ابہام اب تک ختم نہیں ہو سکا۔ اس پس منظر میں کینیا کی عدالت میں اس کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز ایک اہم پیش رفت ہے۔ ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیقہ اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت دراصل صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ انصاف کی اس جدوجہد کی علامت ہے جو صحافت کی آزادی اور انسانی جان کے احترام سے جڑی ہوئی ہے۔
ارشد شریف اکتوبر 2022 میں کینیا میں پولیس فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ابتدا میں اس واقعے کو غلط شناخت کا نتیجہ قرار دیا گیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس بیانیے پر سوالات اٹھتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی صحافتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کی۔ ایک ایسے صحافی کی موت جس نے برسوں تک طاقتور حلقوں سے سوال کیے، محض ایک حادثہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔
کینیا کی سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے تحقیقات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ عدالت کے روبرو کینیا کے ریاستی اداروں کو جواب دہ بنایا جانا دراصل قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے۔ اگر تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھتی ہیں تو نہ صرف اس کیس کے حقائق سامنے آئیں گے بلکہ عالمی سطح پر یہ پیغام بھی جائے گا کہ کسی بھی صحافی کی جان اتنی سستی نہیں کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔
پاکستانی ریاست کے لیے بھی یہ معاملہ محض ایک بیرونی ملک میں پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے۔ ارشد شریف پاکستان کے شہری اور ایک نمایاں صحافی تھے۔ اس لیے پاکستانی حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کیس کی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں اور انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی تعاون فراہم کریں۔
صحافت کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور ضمیر ہوتی ہے۔ اگر صحافی خود غیر محفوظ ہو جائیں تو سچ کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ ارشد شریف کا قتل اسی خطرے کی یاد دہانی ہے۔ اس کیس میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ صرف ایک خاندان کے لیے انصاف کا راستہ کھولیں گی بلکہ یہ عالمی سطح پر صحافت کے تحفظ کے لیے بھی ایک اہم مثال ثابت ہو سکتی ہیں۔آخرکار، اصل سوال یہی ہے کہ کیا ارشد شریف کے قتل کے اصل حقائق دنیا کے سامنے آئیں گے؟ انصاف صرف فیصلہ سنانے کا نام نہیں بلکہ سچ کو سامنے لانے کا عمل بھی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عدالت میں ہونے والی یہ کارروائی اس سچ تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں