مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط قدم پورے خطے کو طویل عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایران کے خلاف جاری جنگی کشیدگی کے تناظر میں عالمی مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو ایران میں داخلی انتشار یا حتیٰ کہ خانہ جنگی بھی جنم لے سکتی ہے۔ معروف عالمی جریدے “فارن پالیسی”میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں معروف تجزیہ نگار فرید زکریا نے اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران میں خانہ جنگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
فرید زکریا کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگی حکمت عملی میں سب سے بڑا مسئلہ پالیسی کا ابہام ہے۔ ایک طرف امریکی قیادت یہ کہتی ہے کہ مقصد صرف ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے بیانات اور اقدامات سامنے آتے ہیں جن سے حکومت کی تبدیلی کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کبھی ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دینا اور کبھی مذاکرات یا مختلف گروہوں سے رابطے کی بات کرنا اسی غیر واضح حکمت عملی کی مثالیں ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے بارے میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کے نزدیک اس جنگ کا اصل مقصد ایران کی موجودہ سیاسی و عسکری طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں میں ایران کے عسکری اور سکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اسی سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی ملک کی ریاستی ساخت اچانک کمزور یا منہدم ہو جائے تو اس کے نتائج اکثر خطرناک ہوتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی مثالیں پہلے بھی دیکھی جا چکی ہیں۔ لیبیا میں معمر قذافی کے خاتمے کے برسوں بعد بھی مکمل سیاسی استحکام قائم نہیں ہو سکا جبکہ شام کی سول وار نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک پورے خطے کو عدم استحکام میں مبتلا رکھا۔
ایران ایک بڑا اور متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ اگر ریاستی نظم کمزور پڑتا ہے تو اقتدار کا خلا پیدا ہو سکتا ہے جو اندرونی کشمکش کو جنم دے سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ایران کے پاس بڑی تعداد میں تربیت یافتہ اور مسلح فورسز موجود ہیں جن میں انقلابی گارڈ اور دیگر ملیشیا شامل ہیں۔ ایسی صورت میں کسی بھی نئی سیاسی تبدیلی کے خلاف شدید مزاحمت کا امکان بھی موجود ہے۔
اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا خطے کے بڑے طاقتور ممالک اس ممکنہ بحران کے نتائج کا ادراک کر رہے ہیں یا نہیں۔ اسرائیل کے لیے شاید ایران کا کمزور ہونا اس کی سلامتی کے نقطہ نظر سے فائدہ مند ہو، لیکن امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کے لیے خطے میں مسلسل عدم استحکام معاشی اور سیاسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً توانائی کی عالمی منڈیوں کے حوالے سے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے بھی کھلے رکھے جائیں۔ خطے کے بعض ممالک، خصوصاً قطر جیسے ممالک، ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اگر عالمی طاقتیں بروقت سفارتی اقدامات نہ کریں تو ایک ایسا بحران جنم لے سکتا ہے جس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ سیاسی تدبر اور سفارت کاری کو بھی اہمیت دی جائے، کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ریاستوں کو گرانا آسان ہوتا ہے مگر انہیں دوبارہ مستحکم کرنا نہایت مشکل۔
ایران میں خانہ جنگی کا خطرہ اور عالمی سیاست…. عابد صدیق
0








