آزاد کشمیر میں تھرڈ پارٹی بھرتی نظام، کیااصلاحات کی سمت اہم قدم ہے؟ تحریر: عابد صدیق

0

حکومت آزاد جموں و کشمیر نے سرکاری
ملازمتوں کے نظام میں ایک اہم تبدیلی متعارف کراتے ہوئے تھرڈ پارٹی ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کر دیے ہیں۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اب گریڈ 7 اور اس سے اوپر کی ابتدائی بھرتیاں ایک آزاد ادارے کے ذریعے تحریری امتحان اور دیگر مراحل کے بعد کی جائیں گی۔ بظاہر یہ اقدام سرکاری بھرتیوں میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اس کے ساتھ کئی امیدیں اور خدشات بھی وابستہ ہیں۔

آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمتیں ہمیشہ سے ایک حساس اور اہم موضوع رہی ہیں۔ یہاں سرکاری ملازمت کو نہ صرف معاشی استحکام بلکہ سماجی حیثیت کا بھی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بھرتیوں کے عمل پر اکثر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ بعض مواقع پر میرٹ کے بجائے سفارش، سیاسی اثر و رسوخ یا دیگر عوامل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہی پس منظر ہے جس میں حکومت نے تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھرتیوں کا نظام متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئے قواعد کے مطابق بھرتی کا عمل تین مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں تحریری امتحان ہوگا جو ایک آزاد ٹیسٹنگ ادارہ منعقد کرے گا۔ اس کے بعد جہاں ضرورت ہو وہاں تکنیکی ٹیسٹ لیا جائے گا جبکہ آخری مرحلہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے انٹرویو کا ہوگا۔ اس نظام میں ایک اہم تبدیلی نمبروں کی تقسیم کے حوالے سے بھی کی گئی ہے۔ نان ٹیکنیکل آسامیوں کے لیے تحریری امتحان کو 90 فیصد جبکہ انٹرویو کو صرف 10 فیصد نمبر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح تکنیکی آسامیوں کے لیے تحریری امتحان کو 80 فیصد، تکنیکی ٹیسٹ کو 10 فیصد اور انٹرویو کو بھی 10 فیصد وزن دیا گیا ہے۔
یہ فارمولہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں انٹرویو کے کردار کو محدود کر دیا گیا ہے۔ عمومی طور پر بھرتیوں کے عمل میں انٹرویو کو ایک ایسا مرحلہ سمجھا جاتا ہے جہاں مبینہ طور پر مداخلت یا اثر انداز ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ تحریری امتحان کو زیادہ وزن دینے سے کم از کم نظریاتی طور پر میرٹ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان قواعد کے تحت گریڈ 7 اور اس سے اوپر کی اسامیوں کے لیے ٹیسٹ ایک تھرڈ پارٹی ادارہ منعقد کرے گا۔ حکومت ایسے ادارے کی خدمات حاصل کرے گی جس کے پاس قانونی حیثیت، مالی استحکام اور بھرتی کے عمل کو شفاف انداز میں انجام دینے کی صلاحیت موجود ہو۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ طریقہ کار پہلے سے رائج ہے جہاں آزاد ٹیسٹنگ ادارے سرکاری یا نیم سرکاری ملازمتوں کے امتحانات منعقد کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے بھرتیوں کا عمل کیا جاتا رہا ہے۔تاہم یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا آزاد کشمیر میں یہ نظام واقعی میرٹ اور شفافیت کو فروغ دے سکے گا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تھرڈ پارٹی ادارے کا انتخاب کس حد تک شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اگر ٹیسٹنگ ادارے کا انتخاب ہی متنازع ہو گیا تو پھر پورا نظام اپنی افادیت کھو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس مرحلے کو انتہائی احتیاط اور شفافیت کے ساتھ مکمل کرے۔
نئے قواعد میں امیدواروں کے تحفظ کے لیے بھی کچھ اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

مثال کے طور پر تھرڈ پارٹی ادارہ امیدواروں سے مقررہ حد سے زیادہ فیس وصول نہیں کر سکے گا اور ایسا کرنا قابل سزا جرم ہوگا۔ اسی طرح امیدواروں کو ملازمت سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ شکایات کے ازالے کے لیے ہیلپ ڈیسک، ہاٹ لائن اور شکایتی نظام قائم کرنے کی بھی بات کی گئی ہے تاکہ امیدوار کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں اپنی شکایت درج کرا سکیں۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان قواعد کا اطلاق گریڈ 1 سے 6 تک کی اسامیوں پر نہیں ہوگا۔ یہ اسامیاں بدستور روایتی طریقہ کار کے تحت بھری جائیں گی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ نچلے گریڈ کی اسامیوں میں امیدواروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور وہاں بھی میرٹ کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں، اس لیے شفافیت کے اصول کو وہاں بھی لاگو کیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم حکومت نے فی الحال اس نظام کو گریڈ 7 اور اس سے اوپر کی اسامیوں تک محدود رکھا ہے۔
اسی طرح یہ قواعد ان اسامیوں پر بھی لاگو نہیں ہوں گے جو آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھری جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ گریڈ کی بھرتیاں بدستور کمیشن کے ذریعے ہی کی جائیں گی جبکہ درمیانی سطح کی اسامیوں کے لیے تھرڈ پارٹی نظام متعارف کروایا گیا ہے۔
نئے نظام کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ بھرتی کے پورے عمل کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا اور اسے آڈٹ، معائنہ یا عدالتی کارروائی کے لیے پیش کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے قواعد پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ریگولیٹری اور مانیٹرنگ میکانزم قائم کرنے کا اختیار بھی رکھا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر بھرتی کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
تاہم کسی بھی نظام کی کامیابی صرف قواعد بنانے سے نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد سے مشروط ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی مختلف اصلاحات متعارف کروائی گئیں لیکن عملی سطح پر ان کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ اس لیے اصل امتحان اب حکومت اور متعلقہ اداروں کا ہے کہ وہ اس نظام کو کس حد تک دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ نافذ کرتے ہیں۔

آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوان سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے سالہا سال محنت کرتے ہیں اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔ اگر انہیں یقین ہو کہ بھرتیوں کا عمل واقعی میرٹ پر مبنی ہے تو اس سے نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ معاشرے میں انصاف اور شفافیت کا احساس بھی مضبوط ہوگا۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تھرڈ پارٹی ریکروٹمنٹ رولز 2026 آزاد کشمیر میں سرکاری بھرتیوں کے نظام کو بہتر بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اگر اس نظام کو شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اگر اس نظام میں بھی وہی پرانے مسائل در آ گئے جو ماضی میں دیکھنے میں آئے ہیں تو پھر یہ اصلاحات بھی محض ایک اور انتظامی تجربہ بن کر رہ جائیں گی۔
آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ فیصلہ آزاد کشمیر میں میرٹ کی بحالی کا سنگ میل ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں