حکومت کی کفایت شعاری کا منصوبہ کیوں ضروری تھا

0

آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے حالیہ دنوں میں کفایت شعاری کے نام پر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری دفاتر میں ہفتے میں چار دن کام کرنے، جبکہ اسکولوں اور کالجوں کو 31 مارچ تک بند کر کے آن لائن کلاسز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ سرکاری اخراجات میں کمی اور توانائی کی بچت کے مقصد سے کیا گیا ہے، مگر اس اقدام کے حقیقی اثرات اور اس سے حاصل ہونے والی ممکنہ کفایت شعاری پر سنجیدہ بحث ضروری ہے۔
حکومتوں کے لیے مشکل معاشی حالات میں اخراجات کم کرنا ایک ناگزیر امر ہوتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر دونوں اس وقت مالی دباؤ، توانائی کے بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں کفایت شعاری کے اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہفتے میں ایک دن دفاتر بند رکھنے اور تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنے سے واقعی قابل ذکر بچت ممکن ہو سکے گی؟
سرکاری دفاتر میں چار دن کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک دن بجلی، ایندھن اور دیگر انتظامی اخراجات کم ہوں گے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے سرکاری اداروں میں بنیادی اخراجات جیسے تنخواہیں، کرایے اور دیگر مستقل اخراجات بدستور برقرار رہتے ہیں۔ اس لیے مجموعی مالی بچت کا حجم شاید اتنا بڑا نہ ہو جتنا کہ اس فیصلے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے۔
تعلیمی اداروں کو بند کر کے آن لائن کلاسز کا فیصلہ بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آزاد کشمیر کے بہت سے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا غیر مستحکم ہے، جبکہ ہر طالب علم کے پاس آن لائن تعلیم کے لیے ضروری آلات بھی دستیاب نہیں۔ اس صورتحال میں خدشہ ہے کہ طلبہ کی ایک بڑی تعداد مؤثر انداز میں تعلیم حاصل نہ کر سکے گی۔ یوں تعلیمی تسلسل متاثر ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔
مزید یہ کہ دفاتر کے اوقات کار میں کمی سے عوامی خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ پہلے ہی سرکاری دفاتر میں عوام کو مختلف امور کے لیے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کام کے دن کم کر دیے جائیں تو اس سے انتظامی امور میں تاخیر اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کفایت شعاری یقیناً وقت کی ضرورت ہے، مگر اس کے لیے جامع اور دیرپا حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ صرف علامتی اقدامات سے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ حکومت اگر واقعی اخراجات میں کمی چاہتی ہے تو اسے غیر ضروری سرکاری مراعات، غیر ترقیاتی اخراجات، سرکاری گاڑیوں کے بے جا استعمال اور غیر مؤثر منصوبوں پر نظرثانی جیسے بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے۔یہ بھی ضروری ہے کہ کفایت شعاری کے فیصلے ایسے نہ ہوں جن سے تعلیم اور عوامی خدمات متاثر ہوں۔ ایک ذمہ دار حکومت کا فرض ہے کہ مالی نظم و ضبط قائم کرتے ہوئے عوامی سہولیات اور تعلیمی نظام کے تسلسل کو بھی یقینی بنائے۔آزاد کشمیر میں حالیہ فیصلہ وقتی طور پر کچھ وسائل کی بچت کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدام پائیدار معاشی اصلاحات کی طرف ایک قدم ہے یا صرف ایک عارضی انتظام؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں اس بات سے ملے گا کہ حکومت کفایت شعاری کو محض ایک اعلان تک محدود رکھتی ہے یا اسے ایک جامع پالیسی کی صورت دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں